Tum bin Jiya Jae Kese – تم بن جیا جائے کیسے

 1,200

 عورت بیوہ ہو، طلاق یافتہ یا خلع یافتہ، اسے شوہر سے محرومی کی سزا کیوں دی جاتی ہے؟ اس کے ساتھ امتیازی سلوک کیوں کیا جاتا ہے؟  ایسی خواتین جو بحیثیت “سنگل پیرنٹ”کے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں ان کی کہانیاں۔

Author Sumaira Kulsoom
Published December 2022
Price Rs. 1200 PKR
ISBN 978-969-749-212-1
Language Urdu
Total Pages 294
Paper Quality Imported Cream Paper
Binding Hardback Edition
Genre Fiction, Social, Urdu

Description

کتاب کے بارے میں

زندگی اللہ تعالیٰ کا ایک انمول عطیہ ہے اور اس کی خوبصورتی ان رشتوں کی وجہ سے ہےجو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو عطا کیے ہیں۔ رشتوں میں سب سے مضبوط رشتہ میاں بیوی کا رشتہ ہے جو کہ معاشرے کی بنیادی اکائی کی حیثیت رکھتا ہے لیکن یہ مضبوط رشتہ کبھی طلاق اور کبھی خلع کی وجہ سے ٹوٹ بھی سکتا ہے اور کبھی مشیت ایزدی کی وجہ سے انسان اپنے زندگی کے ساتھی سے محروم ہو جاتا ہے۔
رضائے الٰہی سے جب میں اپنے شوہر سے محروم ہوئی تو مجھے یوں لگا کہ جیسے آسمان سے شہابیے کا کوئی ٹکڑا آ کر میرے گھر کی دہلیز سے ٹکرا گیا ہو اور اس نے سارے گھر کو اتھل پتھل کر دیا ہو، پھر جب ضروریات زندگی کی وجہ سے گھر سے باہر نکلنا پڑا تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ کوئی اور دنیا ہے۔ یہ وہ دنیا نہیں ہے جو میرے شوہر کی زندگی میں تھی۔
ایک ایسا معاشرہ کہ جہاں عدم انصاف، عدم مساوات اور عدم رواداری ہو وہاں ایک تنہا عورت کی زندگی مشکل نہیں بلکہ مشکل تر ہوتی ہے۔ پھر اکثر یہ بھی سوچنا پڑتا ہے کہ عورت بیوہ ہو، طلاق یافتہ یا خلع یافتہ۔ اسے شوہر سے محرومی کی سزا کیوں دی جاتی ہے؟ اس کے ساتھ امتیازی سلوک کیوں کیا جاتا ہے؟ پھر میں نے اور بھی ایسی خواتین کو دیکھا جو بحیثیت “سنگل پیرنٹ”کے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی تھیں اور مختلف مسائل کا شکار تھیں۔
ان تمام حقائق نے مجھے “تم بن جیا جائے کیسے” لکھنے پر مجبور کیا۔
یہ حقیقت ہے کہ شوہر سے محروم عورت کو قلبی و ذہنی اذیت دینے میں بیشتر افراد اپنا اپنا حصہ ڈالتے ہیں یہ بھولتے ہوئے کہ جب ایک تنہا عورت کو بلاوجہ اذیت دی جاتی ہے تو وہ اذیت ان بچوں میں بھی سرایت کر جاتی ہے جن کو وہ شب و روز محنت کر کے اور اپنے ارمانوں کا خون کر کے وہ پال رہی ہوتی ہے۔ ان کہانیوں میں ان عورتوں کے لیے بھی راہنمائی ہے جو شوہر کے بغیر تنِ تنہا اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں اور بلاشبہ یہ کہانیاں مرد بھی پڑھ سکتے ہیں کہ وہ ایک باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے کی حیثیت سے کس طرح سے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں کہ وہ عورت کو مضبوط بنائیں۔
غور کیا جائے تو یہ کتاب صرف ان دو سوالوں کے جوابات پر مشتمل ہے۔
ہم کہاں پر غلط ہیں، جہاں کہ ہمیں غلط نہیں ہونا چاہیے۔
ہم کہاں پر ٹھیک نہیں ہیں جہاں کہ ہمیں ٹھیک ہونا چاہیے۔

Additional information

Weight 0.5 kg
Dimensions 0.4 × 5.5 × 8.5 in

There are no reviews yet.

Be the first to review “Tum bin Jiya Jae Kese – تم بن جیا جائے کیسے”

Your email address will not be published. Required fields are marked *